دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ایریا میں اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت واپڈا کی جانب سے چلاس کو صاف پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبہ پر عملدرآمد کا آغاز

تین ارب 78کروڑ روپے مالیت کی میگا واٹر سکیم کیلئے واپڈا اور کنٹریکٹر کے مابین معاہدہ طے پاگیا

سکیم ایک سال میں مکمل ہوگی، ایک لاکھ سے زائد آبادی کو آئندہ 50 سال تک صاف پانی کی سہولت میسر آئے گی

واپڈا دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ایریا میں معاشی اور سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر 78.5 ارب روپے خرچ کر رہا ہے۔

26 فروری 2026
واپڈا، دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے تحت اعتماد سازی کے ایک اور اہم منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ واپڈا نے چلاس شہر کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبے پر کام شروع کرنے کے لیے کنٹریکٹر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب چلاس کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں جنرل منیجر/پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ڈاکٹر نزاکت حسین اور حسنات برادرز کنسٹرکشن کمپنی کے جنرل مینجر مہتاب احمد نے دیامر انتظامیہ اور ڈیم علماء کمیٹی دیامر کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت بہت جلد چلاس شہر کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔
تقریباً تین ارب 78 کروڑ روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل پر آئندہ 50 برس تک چلاس تقریبا ایک لاکھ آبادی کو صاف پینے کا پانی میسر ہوگا۔ منصوبے کے تحت یومیہ 23 لاکھ گیلن سے زائد پانی بوٹو گاہ اور تھک نالہ سے پائپ لائنوں کے ذریعے چلاس شہر تک پہنچایا جائے گا۔ یہ سکیم ایک سال میں مکمل ہوگی۔
تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل منیجر/پراجیکٹ ڈائریکٹر دیامر بھاشا ڈیم انجینئر ڈاکٹر نزاکت حسین نے کہا کہ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید (ریٹائرڈ) اور واپڈا اتھارٹی کی ہدایات کی روشنی میں دیامر کی معاشی و سماجی ترقی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چلاس واٹر سپلائی سکیم سے شہر میں پینے کے صاف پانی کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اعتماد سازی کے جامع اقدامات کے تحت دیامر میں شامل دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔
اس موقع پر ڈیم علماء کمیٹی کے امیر مولانا حضرت اللہ نے کہا کہ چلاس واٹر سپلائی سکیم پر عملی کام کا آغاز عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جس کی تکمیل کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔انھوں نے واپڈا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ 100 سالہ پرانا مسئلہ حل ہونے جارہا ہے۔دیامر میں صاف پانی ہونے کے باوجود عوام گندا پانی پینے پر مجبور تھے۔ پراجیکٹ مکمل ہونے پر عوام کو صاف پینے میسر ہوگا۔
تقریب میں واپڈا کے چیف انجینئرز، کمشنر دیامر استور ڈویژن خورشید عالم، ، ایس پی دیامرکیپٹن ریٹائرڈ شہریار خان ، ڈیم علماء کمیٹی دیامر کے اراکین، سی بی ایم کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹر کمپنی کے دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ واپڈا دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ایریا میں معاشی، سماجی اور انفراسٹرکچر کے دیگر منصوبوں پر 78.5 ارب روپے خرچ کر رہا ہے۔ واپڈا دیامر میں کیڈٹ کالج، تھور میں اے پی ایس، جبکہ تھک اور تھور میں 6.6 میگاواٹ کے دو پن بجلی گھروں سمیت متعدد منصوبے مکمل کر چکا ہے۔

Scroll to Top